فتویٰ کی لغوی وشرعی تحقیق

الفتویٰ :قانون یاشرعی سوال کا جواب، اس کی جمع فتاویٰ ہے۔

مفتی:جو لوگوں کو فتویٰ دے، ایک مفتی سائل کو چونکہ اپنے دلائل سے قوت اور ثبوت مہیا کرتا ہے اس لئے فتویٰ گویا مدلل ثبوت والا جواب ہے۔

فقیہ:جسے سرکار کی جانب سے لوگوں کے شرعی مسائل کے حل کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔

نیز فتویٰ یہ مفتون کی جمع ہے، فتویٰ :بفتح الفاء وبضم الفاء دونوں مستعمل ہے لیکن قول اول زیادہ صحیح ہے۔

بعض کے نزدیک فتویٰ” الفتوہ”سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ کرم، سخاوت، مروت اور زور آوری کے ہیں فتویٰ کو بھی فتویٰ اس لئے کہتے ہیں کہ مفتی اپنی سخاوت ،مروت اور عالمانہ قوت سےکام لیکر کسی دینی مسئلہ کو حل کرتا ہے، جبکہ بعض کے نزدیک "الفتی”سے موخوذ ہے جس کے معنیٰ ہے "الثابت القوی” ۔(ماخوذ از شرح الاشباہ والنظائر)

مرکزی۔۔۔۔۔۔۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے