نیند کےبعد تری دیکھنے سے غسل کاحکم؟

سوال: کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نیند سے بیدار ہونے کے بعد کبھی کبھی اپنے کپڑے پر تری پاتاہے اور احتلام ہونا اسے یاد نہیں رہتا ہے یوں ہی حالت بیداری میں بھی بلا شہوت منی کا خروج ہوجاتا ہے تو کیا غسل واجب ہے دونوں سوالوں کا جواب مفصل بیان کریں۔

المستفی:زاہد رضا سیتامڑھی بہار

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب منہ الصدق والصواب

(1)اگر نیند سے بیدار ہو کر بدن یاکپڑے پر تری پائی اور اس تری کے منی یا مذی ہونے کا یقین یا احتمال ہو تو غسل واجب ہے اگرچہ خواب یاد نہ ہو چنانچہ ردالمحتارجلد اول ص301 میں ہے : "فیجب الغسل علم انہ منی مطلقا ولا یجب اتفاقا فیما اذا علم انہ ودی مطلقا وفیما اذا علم انہ مذی اوشک فی الاخرین مع عدم تذکرالاحتلام،ویجب عندھما فیما اذا شک فی الاولین او فی الطرفین او فی الثلاثۃ احتیاطا”.

اور فتاویٰ رضویہ جلد اول ص:104 میں ہے کہ "تری کپڑے یا بدن کسی پر دیکھی اور یقین ہے کہ یہ منی یا مذی نہیں بلکہ ودی یا بول یا پسینہ یا کچھ اور ہے ان دونوں صورتوں میں مطلقا اجماعا غسل اصلا نہیں اگرچہ خواب میں مجامعت اور اس کی لذت اور انزال تک یاد ہواور اگرثابت ہو کہ یہ تری منی ہے اس میں بالاتفاق نہانا واجب ہے اگرچہ خواب وغیرہ اصلایاد نہیں”

یوں ہی بہارشریعت جلد اول حصہ دوم ص:321میں ہے۔

(2)اور اگرحالت بیدرای میں منی کا خروج بلا شہوت ہو جائےتو غسل واجب نہیں چنانچہ تنویر الابصار مع ردالمحتار جلد اول ص:296/295 میں ہے :”وفرض الغسل عند خروج منی منفصل عن مقرہ بشہوۃ ۔اور شرح الوقایہ جلد اول ص:75 میں "موجبہ انزال منی ذی دفق وشھوۃ عند الانفصال حتی لو انزل بلا شہوۃ لا یجب الغسل”۔اور بہار شریعت جلد اول حصہ دوم ص:321میں ہے کہ” اگر شہوت کے ساتھ ہو تو غسل واجب ہے”۔اور بدائع الصنائع جلد اول ص:146میں ہے خروج المنی عن شہوۃ دفقا من غیر ایلاج بای سبب حصل الخروج کاللمس والنظروالاحتلام حتی یجب الغسل بالاجماع لقولہ علیہ السلام "الماء من الماء”۔

ھذا ما ظھرلی اللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد مناظرحسین مرکزی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے