نمازکےوقت اخیرمیں بالغ ہواتونمازکاکیاحکم ہے؟

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید ایسے وقت میں بالغ ہوا کہ وہ غسل کر کے اس وقت کی نماز ادا نہیں کر سکتا یعنی غسل کر کے آئے گا تو نماز کا وقت جاتا رہے گا تو کیا اس پر اس وقت کی قضا لا زم ہے؟مدلل ومفصل جواب تحریر فرمائیں ۔

المستفتی:محمدتحسین رضا سیوانی

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب

صورت مسئولہ میں زید غسل کا تیمم کر کے بعد وضو نماز پڑھے گا اور بعد میں اس نماز کا اعادہ کرے گا اور اگر صرف اتنا وقت ہے کہ تکبیر تحریمہ ہی کہہ سکتا ہے تو ایسی صورت میں اس پر اس کی قضا لا زم ہوگی ،چنانچہ تنویرالابصار مع در مختارمیں

ہے:”فاکسبب ھو الجزئ لاخیر ولوناقصاً،حتی تجب علی مجنون ومغمی علیہ افاقا،وحائض ونفساء طھرتاوصبی بلغ””۔(جلد دوم ص:10۔11)

اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے :”الوجوب یتعلق عندنا باخر الوقت بمقدار التحریمۃ حتی آن الکافر اذا اسلم والصبی اذا بلغ والمجنون اذاافاق والحائض اذا طھرت ان بقی مقدار التحریمۃ یجب علیہ الصلاۃعندنا”۔(جلد اول،ص:51)

اور بہار شریعت میں ہے:”اگر کوئی صبی بالغ ہوا یا کافر مسلمان ہوا اور وقت صرف اتنا ہے کہ اللہ اکبر کہہ لے تو ان سب پر اس وقت کی نماز فرض ہوگی”۔(حصہ:سوم،ص443)

اور فتاویٰ رضویہ میں ہے:”تیمم کر کے نماز وقت میں پڑھ لے بعد کو نہا کر اعادہ کرے(جلد اول،ص:586)

اور بہار شریعت میں ایک دوسری جگہ ہے:”وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ وضو یا غسل کرے گا تو نماز قضاہوجائے گی تو چاہیے کہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے پھر وضو یا غسل کرکے اعادہ کرنا لازم ہے”۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:محمد مناظر حسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے