سلام کا تحقیقی جائزہ


★سلام اور جواب سلام کی شروعات کب اور کیسے ہوئی؟★
سلام پیش کرنے کی ابتداکب اور کیسے ہوئی اس بارے میں بخاری شریف و مسلم شریف کی حدیث پاک کامفہوم ملاحظہ فر مائیں: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ حضور سر ور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت(صفت)میں پیدا فر مایا ،ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی، جب تخلیق آدم ہوچکی تو رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم! جا اور فرشتوں کی اس بیٹھی ہوئی جماعت کو سلام کر اور غور سے سن کہ وہ فرشتے تمہیں کیا جواب دیتےہیں، کیو نکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام تشریف لے گئے اور اس طرح سلا م پیش کیا "السلام علیکم”تو انہوں نے جواب دیا "السلام علیک ورحمۃ اللہ "۔یعنی انہوں رحمۃ اللہ کے الفاظ زائد کہے۔(صحیحین ،مشکوٰۃ شریف 397،کتاب الاٰداب باب السلام فصل اول )۔
فوائد۔۔۔۔۔مذکورہ حدیث پاک سے واضح طور پر چند باتو ں کا علم ہوتا ہے ۔
1.سلام کی تعلیم دینا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے ۔
2.سلام کر نا سارے انسانو ں کے باپ سیدنا آدم علیہ السلام کی سنت ہے ۔
3۔بڑھا کر جواب دینا فرشتوں کی سنت ہے ۔
♧ مسائل ♧
مشہور اور رواج تو یہی ہے کہ "السلام علیکم”ہی سلام ہے لیکن سلام کے دوسرے الفاظ بھی ہیں جیسے کوئی صرف یہ کہے "سلام "تو بھی سلام ادا ہو جاتا ہے ۔اور سلام کے جواب میں "سلام ہی کہ دیا "،یا "السلام علیکم”ہی کہ دیا، یا صرف "وعلیکم”ہی کہ دیا تواس طرح بھی سلام کا جواب ہو جاتا ہے ۔
بالا خیر اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ ہمیں بلا امتیاز و تفریق سلام کی عادت ڈالنے کی تو فیق عنایت فر مائے۔۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔

از. محمد مناظر حسین مر کزی سیتامڑھی (بہار)

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے