کیاطالبات ناپاکی کےایام میں درس قرآن لےسکتی ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ ایک طالبہ ہے کیا وہ حیض کے ایام میں قرآن کا درس لے سکتی ہے؟اور حلقہ درس میں بیٹھ سکتی ہے؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک العزیزالوھاب منہ الصدق والصواب

حائضہ قرآن کا درس لے سکتی ہے اور حلقہ درس میں بیٹھ بھی سکتی ہے کیونکہ سننے اور الفاظ کو تصور میں لانےمیں کوئی حرج نہیں ہے۔

چنانچہ تنویر الابصار جلد اول ص:316میں ہے:”ولا یکرہ النظر الیہ (ای القرآن)لجنب وحائض ونفسا”۔اور فتاویٰ شامی میں ہے :وقراءۃ قرآن ای ولو دون ایۃ من المرکبات لا المفرادات،لانہ جوز للحائض المعلمۃ تعلیمہ کلمۃًکلمۃً(جلد اول ص:487)

اور فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:واذا حاضت المعلمۃ فینبغی لھا ان تعلم الصبیان کلمۃ کلمۃ وتقطع بین الکلمتین”.

اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:” ولا یکرہ للجنب والحائض والنفساءالنظر فی المصحف”۔(جلداول ص:39)

اور بہار شریعت میں ہے:”معلمہ کو حیض یانفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجےکرانے میں کوئی حرج نہیں”۔(جلد اول حصہ:دوم ص:379مطبوعہ المکتبۃالمدینہ)

مذکورہ باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب حائضہ قرآن کا درس سانس توڑتوڑکر دے سکتی ہے تو طالبات بدرجہ اولیٰ حلقہ درس میں بیٹھ کر قرآن کا درس لے سکتی ہے۔

ہھذا ماظھر لی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:محمدمناظرحسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے