حامداً ومصلیا امابعد
فاعوذباللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یاایھاالذین امنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذا ھتدیتم (س،مائدہ،آیت 15)
اے ایمان والوں !تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑےگا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔(کنزالایمان)
عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من رایٰ منکراًفلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذالک اضعف الایمان۔(مسلم شریف،جلد اول ص:50)
جلیل القدر صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے جو شخص خلاف شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اس کی اصلاح کرے اور اگر طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کا رد کرے ،اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔
مذکورہ بالا حدیث کے تحت حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر کسی برائی (فتنہ)کو اپنے ہاتھوں سے مٹانے سے ملکی قوانین کو اپنے ہاتھوں میں لینا لازم نہ آتا ہو تو اس برائی اور فساد کو اپنے ہاتھوں سے مٹایاجائے ورنہ زبان سے اوراگراس پر بھی قادرنہ ہوتو پھر برائی کو دل سے ناپسند کرے۔(شرح مسلم شریف ص:233)
تعارف قومی ترانہ
دنیا کے ہر ملک کا اپنا ایک "قومی ترانہ”ہوتا ہے جو اس ملک کے تہذیب وفکر کی عکاسی کرتا ہے اور اس کے ماضی ،حال،مستقبل،کے بارے اور وہاں کے باشندوں کے خیالا ت کا بھی اس سے اندازہ ہوتا ہے یہ "قومی ترانے”کا ایک خاص نام ہوتا ہے جس سے وہ جانا جاتا ہے مثلاً کینیڈا کے قومی ترانہ کو "اولپنیڈا”کے نام سے یاد کیا جاتا ہے پاکستان میں اسے عموماً "قومی ترانہ”کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے اور جبکہ ہندوستان میں اسے "جن گن من "سے یادکیاجاتاہے۔
آئین ہند میں راشٹریہ گان کی حقیقت وابتداء
ایک تحقیق کے مطابق تقسیم ہند سے پہلے بھارتی قومی ترانہ (وندے ماترم)جو کہ ابھی سرکاری ریکارڈمین "قومی گیت”کے طور پر درج ہے بنگلہ زبان کے مشہور ناول نگار بنکم چندر چٹرجی کی 1882ء میں لکھا ناول "آنند مٹھ”میں شامل ہے اور یہ ناول کا ایک حصہ ہے ،لہذا اسے پہلی مرتبہ انہوں نے 7/نومبر1875ء میں لکھا تھا لیکن باضابطہ طور پر رویندر ناتھ ٹیگور نے 1892ء میں کانگریس کی منعقدہ میٹنگ کلکتہ میں اسے پہلی بارگایاتھا یہ درست ہے کہ اس نظم کو اولاً رویندر ناتھ نے ہی آواز دی تھی اور اس کی دھن بھی بنائی تھی مگر جب اس نظم کو قومیت کی علامت بنا کر پیش کیاجانے لگا تو انہوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے1837ء میں سبھاش چندر بوس کو ایک خط لکھا کہ "وندے ماترم کا بنیادی عقیدہ دیوی درگا کی پرستش ہے اور یہ اتنا واضح ہے کہ اس پر کسی قسم کی بحث کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے،بے شک بنکم نے درگا کو بنگال کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا ہے مگر کسی مسلم سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر دس ہاتھوں والی "درگا”کی عبادت کرے۔(بحوالہ:رویندر ناتھ کے خطوط مطبوعہ کیمیرج یونیورسٹی)
گیت میں بھارت کو "درگا ماں”ثابت کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے قبل ہی یہ گیت متنازع بن گیا تھا،جواہر لعل نہرو،سبھاش چندر اور ڈاکٹر لوہیا جیسے رہنمائوں نے اس گیت کی مخالفت کی اور جب بھارت کی قومی گیت کے انتخاب کی بات آتی تو ایک گروپ کے کوشش کے باوجود بھی اس گیت کو قومی ترانہ میں نہیں شامل کیاگیا بلکہ بنگلہ شاعر رویندر ناتھ ٹیگور کی ایک گیت کو بھارت کا قومی ترانہ بنایا گیا جو ذیل مختصراً ذکر ہے ۔ع
جن گن من ادھینایک جے ہے
بھارت بھاگیہ ودھاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
مذکورہ ترانہ کوٹائیگور نے پہلے بنگالی زبان میں لکھا تھا جبکہ بعد میں اسے سنسکرت کا لہجہ دیکر سنوار گیا یہ ترانہ در اصل کنگ جارج پنجم کے لئے لکھا گیا تھا جب ہندوستان کی حکومت اس کے سپرد ہوئی ،ٹھیک اس کے تاج پوشی کے وقت یہ نظم پڑھا گیا اور اسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
ایک ریسرچ کے مطابق انڈین نشنل کانگریس کے 1911ء کے اجلاس میں یہ نظم پہلی دفعہ گائی گئی اور آزادی کے بعد اسے 24/جنوری 1950ء کو ہندوستان کے قومی ترانے کے طور پر اپنانے کا فیصلہ سنایا گیا جب آئین ساز اسمبلی نے اس ترانے کو آئینی طورپر قومی ترانے کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا تو لفظ”سندھ”کو”سندھو”سے تبدیل کردیاگیا ایسا در حقیقت اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ”سندھ”پاکستان کا حصہ بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ابھی تک یہ لفظ ترانے میں جوں کا توں موجود ہے اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ارباب اختیار نے اس کو ترویج دینے اور عام کرنے کے لئے کوئی مؤثر اقدامات نہیں اٹھائے اور ہرمذہب کے لوگوں کے لئے لازم قرار نہیں دیا ،لیکن آج پورے ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی سازشیں چلائی جارہی ہیں،آر ایس ایس (Rss)پورے ملک کو ہندو راشٹریہ بنانے کے لئے ہر دن ایک نیا شوشہ چھوڑ کر بد امنی اور بے چینی کو بڑھانے پر آمادہ ہے ،اسی کڑی سے ماضی قریب میں یوپی کی یوگی حکومت نے اپنی مسلم دشمنی ظاہر کرتے ہوئے مدارس اسلامیہ کے لئے ایک حکومتی سرکولر جاری کرتے ہوئے کہا کہ”15/ اگست یوم آزادی کو سبھی مدارس میں "جن من گن’اور "وندے ماترم "گائیں اور اس کی ویڈیو گرافی بطور ثبوت ڈی ایم کے پاس جمع کریں۔(اس کا رد کرتے ہوئے جو حضور شہزادہ تاج الشریعہ نے بیان دیا اور اس پر عمل بھی کیا وہ کسی سے مخفی نہیں)
آج چہار جانب سے شریعت اسلام پر انگشت نمائی کی جارہی ہے منصوبہ بندسازشیں چلائی جارہی ہیں اور مدارس کو دہشت گردی کی نرسری کہاجارہاہے مدارس کے حب الوطنی پرسوالیہ نشان لگایاجارہا ہے جبکہ ہر مدرسہ میں ترنگا لہرایا جاتاہے اور لہرایا جاتا رہےگا۔
تم جتنا تراشوگے اتنا ہی سوا ہوگا
. اسلام وہ پودا ہے کہ کاٹو تو ہرا ہوگا
ہندوستانی”قومی ترانہ”شریعت کی نظر میں
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں ہر مذہب کے ماننے والے رہتے ہیں اور انہیں ان کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل حق حاصل ہے ،قانون بنانا ایک الگ چیز ہے اور قانون پر عمل کرنا اور عمل کروانا نیز اسے آئین ملک تسلیم کرنا ایک الگ چیز ہے ،کسی جمہوری اور عوامی حکومت کو یہ حق نہیں کہ اہل وطن کے مذہبی امورمیں دخل اندازی کرے اور ایمان وعقیدہ کے خلاف منظوم کا پابند بنانے کی کوشش کرے۔
ہمارے علمائے اہل سنت کے نزدیک جن گن من پڑھنے کی قطعی اجازت نہیں کیونکہ اس میں شرعاً کئی خامیاں ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل یہ ہیں:
(1)یہ ترانہ رویندر ناتھ ٹائیگور نے جارج پنجم کی تعریف میں لکھا ہے اور”جارج پنجم ایک انگریز کافر اور ظالم حاکم تھا اور اسلام میں کسی کافر کی تعریف درکنار کسی فاسق وظالم خواہ مسلمان ہی ہو اس کی تعریف بھی ناجائز وحرام ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک کفر تک قرار دی گئی ہے ،حدیث پاک میں ہے:”اذا مدح الفاسق غضب الرب تعالیٰ واھتزلہ العرش "یعنی جب کسی فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ غضب فرماتا ہے اور اس کی وجہ سے عرش الٰہی کانپ جاتا ہے۔(شعب الایمان للبیہقی جلد ،4ص:331)حدیث مذکورہ کی تشریح میں ملا علی قاری علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں : وقال الطیبی : اھتزلہ العرش عبارۃ عن وقوع امر عظیم وداھیۃ دھیاء لان فیہ رضا بما فیہ سخط اللہ وغضبہ بل یقرب ان یکون کفرا واذا کا ن ھذا حکم من مدح الفاسق فکیف عن مدح الظالم یعنی طیبی نے کہا عرش کا ہلنا کنایہ ہے بڑے واقعہ اور سخت مصیبت سے اس لئے کہ اس میں ایسی چیز سے راضی ہو نا ہے جس میں اللہ کی ناراضگی ہے اور اس کا غضب ہے بلکہ قریب ہے کہ وہ کفر ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور جب فاسق کی تعریف کرنے والے کا یہ حکم ہے تو پھر ظالم کی تعریف کرنے والے کا حکم کیسا ہوگا؟(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الاداب،باب حفظ اللسان 9/89)
اور محقق علی الا طلاق حضرت محدث حق دہلوی نے بھی انہیں کے مثل حدیث کی تشریح فرمائی ہے (اشعۃ اللمعات فارسی،جلد،4ص:44)
ملا علی قاری اور شیخ محقق کے نزدیک فاسق کی تعریف قریب الکفر ہے تو بھلا کافر کی تعظیم کیوں کر کفر نہ ہوگی۔
حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :”کفارومشرکین کی ایسی تعظیمیں کفرہیں،ان کی جے پکارنا،ان کے مرنے یا جیل جانے پر ہڑتال اوراس پر وہ اصراراور جو مسلمان نہ مانے اس پر وہ ظلم و اضرار کمال تعظیم کفار اور باعث دخول نارو غضب جبار،وحسب تصریحات ائمہ موجب کفر واکفار،فتاویٰ ظہیریہ واشباہ والنظائر وتنویرالابصار ودرمختار میں ہے:”لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفر”یعنی اگر کسی ذمی کو احتراماً سلام کہ دیا تویہ کفر ہے کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہوتی ہے(فتاویٰ رضویہ جلد،6،ص:10)
(2)رویندر ناتھ نے یہ ترانہ جارج پنجم کے لئے نہیں بلکہ اپنے معبودوں کے لئے لکھا،تب بھی مسلمانوں کو اس کا پڑھنا حرام ہوگا کیونکہ مسلمان صرف ایک خدا پر ایمان رکھتا ہے اور وہ بس اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کسی اور مذہب کی معبود کی تعریف وتعظیم اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دےگی۔
حضور اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:”کفار کے مذہبی جذبات اور ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں کو عزت دینا صریح کلمہ کفر ہے "(فتاویٰ رضویہ جلد6،ص:126/125)
(3)اگر کہا جائے کہ یہ ترانہ اللہ پاک ہی کے لئے لکھا گیا ہے تب بھی اسے پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ اس میں کئی ایسے جملے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں ،خاص کر لفظ "جے”کہ اس کا استعمال اغیار اپنے معبودوں کے لئے کرتے ہیں جیسے "جے رام”۔”جے بھگوان”،یہ لفظ ان کا مذہبی شعار بن چکا ہے اور جو لفظ کسی دوسرے مذہب کا شعار بن جائے اس کا استعمال معبود برحق کے لئے تو الگ بات کسی مسلمان کے لئے بھی جائز نہیں ہوگا۔
حضور اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :”جے جو کافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یاعام ہنود کی ،یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے ،درمختاروغیرہ میں ہے:” تبجیل الکافرکفر”یعنی کافر کی تعظیم کفرہے،یونہی جو نا م کا مسلمان حد کفر تک پہنچ گیا ہو اس کی جے کابھی یہی حکم ہے اور مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے (فتاویٰ رضویہ جدید،15/268)
مزید فرماتے ہیں :”جے بولنا طریقہ کفار ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:”من تشبہ بقوم فھو منھم”یعنی جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کرلی تو وہ انہیں میں سے ہے ،پھر اگر معبودان کفار کی جے ہے تو کفر ہے اور اگر کافروں کی ہے تو فقہائے کرام اسے بھی کفر فرماتے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ ،جدید،280/14)
شارح بخاری فرماتے ہیں:”یہ دونوں لفظ بولنا ہندؤں کا شعار ہے یہ لفظ جب کوئی بولتا ہے تو اس سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ بولنے والا ہندو ہے اس لئے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ اس قسم کے الفاظ استعمال کریں ۔”(فتاویٰ شارح بخاری،جلد،2۔ص:463)
(4)راشٹریہ گان کا ایک شعر ع
پنجاب ،سندھ،گجرات،مراٹھا
دراوڈ اتکل ونگا
ترجمہ:تیرانام ہی پنجاب،سندھ،گجرات،مراٹھاعلاقوں کے دلوں میں جگتاہے دراوڈ،اتکل اور بنگال میں بھی جمنا اور گنگاکے پانی میں بھی رواں دواں ہے۔
ترانہ کا یہ حصہ کچھ ایسا ہے کہ شاعران الفاظ کے ذریعے یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ اس کا مزعوم ومدعو”خدایارب”کا نام گنگااور جمنا کے پانی میں بھی رواں دواں ہے کیونکہ وہ لوگ ان(گنگا،جمنا)کو دیوی کاروپ مانتے ہیں جبکہ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ آسمان و زمین دریا وپہاڑ اور دنیاکے تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں انہیں دیکھ کہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا اندازہ ہوتا ہے کقولہ تعالیٰ:”ومن آیاتہ خلق السمٰوٰات والارض واختلاف السنتکم والوانکم ان فی ذلک لاٰیات للعالمین”۔(الروم،آیت 22)
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بے شک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لئے۔(کنزالایمان)
ان مخلوقات کے بارے میں یہ کہنا تو قطعی درست ہے کہ یہ اللہ کی قدرت کی عظیم نشانیاں ہیں مگر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان مخلوقات کے اندر رب کا نام رواں دواں ہے اس قسم کی تعبیرات پیہم اورغیرمناسب ہے ،مسلمان اس بات کا پابند ہیں کہ وہ اپنے رب کو بالکل واضح الفاظ یا اس کے اسمائے حسنیٰ سے پکارے نہ کہ غیر واضح الفاظ سے کقولہ تعالیٰ:وللہ الاسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا وذرالذین یلحدون فی اسمائہ سیجزون ماکانوا یعملون۔(الاعراف 18)
(5)مذکورہ نظم کے پہلے ہی سطر میں جو لفظ”ادھینایک”ہے ہندی،سنسکرت،اور بنگلہ میں اس کے کل معنیٰ یہ ہیں:نیتا،لیڈر،اگوا،سردار،ڈکٹیٹر dictater ,لیڈر کا کاتب ان میں سے کوئی معنی اللہ کی شان میں نہیں بولا جاسکتاہے۔
الحاصل مذکورہ تمام بیانوں کے پیش نظر ہندوستانی مسلمانوں پر غیر شرعی ترانہ کی پابندی مذہب میں بے جا مداخلت ہے جس کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جا سکتی لہٰزا ہم مرکز اہلسنت بریلی شریف(قائد اہلسنت) کو فولو کریں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ مدارس اسلامیہ میں غیر مذہبی کفریہ رسمیں اور پوجا پاٹ وغیرہ کی پابندیاں لازم قرار دے دی جائیں۔لہذا مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات بریلی شریف کے شانہ بشانہ چلیں اور اسلام میں کسی طرح کی بے جا مداخلت نا قابل برداشت کا پیغام عام کریں۔
علاوہ ازیں یوم آزادی کو مسلمان تزک واحتشام کے ساتھ منائیں جائز قومی ترانے پڑھیں ،شرعی حدود میں رہ کر حب الوطنی کو اجاگر کریں جنگ آزادی میں شہید ہونے والے مسلم شہیدوں کو ایصال ثواب کریں ،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے صدقے میں دہشت گرد گروہ،شرپسندوں کی بری طاقت سے وطن اور اہل وطن ،مدارس اسلامیہ،خانقاہ،مساجد،اور مسلمانوں کی عزت وابروں کی حفاظت فرمائیں آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
خون دل دے کر وطن کی آبیاری ہم نے کی
ملک وملت کے لئے یوں جانثاری ہم نے کی
ہاں وطن سے پیار کرناسنت سرکار ہے
اس لئے حب وطن کی پاسداری ہم نے کی
از۔۔۔محمد مناظرحسین مرکزی سیتامڑھی
![]()