چلتی کشتی اوراڑتےہوئےہوائی جہازپرنمازکاحکم

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کیا چلتی کشتی یا اڑتے ہوائی جہاز پر فرض نماز پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

صورت مسئولہ میں چلتی کشتی پر نماز پڑھنا صحیح ہے جبکہ وہ بیچ دریا میں ہو اور اگر کنارے پر ہواور خشکی پرآنا ممکن ہو تو کشتی پر نماز درست نہیں یہی حکم فضاء میں اڑتے ہوائی جہاز پر نماز پڑھنے کا ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ فتاویٰ رضویہ میں رقمطرازہیں:چلتی کشتی سے اگر زمین پر اترنا میسرہو کشتی میں پڑھنا جائز نہیں بلکہ عندالتحقیق اگرچہ کشتی کنارے پر ٹھہری ہو مگر پانی پر ہو زمین تک نہ پہونچی ہو اور یہ کنارہ پر اتر سکتا ہے کشتی میں نماز نہ ہوگی کہ اس کا استقرار پانی پر ہے اور پانی زمین سے متصل باتصال قرار نہیں جب استقرار کی حالتوں میں نمازیں جائز نہیں ہوتیں جب تک استقرار زمین پر اور وہ بھی بالکلیہ نہ ہوتو چلنے کی حالت میں کسیے جائز ہوسکتی ہیں کہ نفس استقرارہی نہیں بخلاف کشتی رواں جس سے نزول میسر نہ ہو کہ اسے اگر روکیں گے تو استقرار پانی پر ہو گا نہ کہ زمین پرلہٰذاسیرو وقوف برابر۔(جلد سوم ص:44)

چلتی ریل گاڑی پر بھی فرض وواجب وسنت فجر نہیں ہوسکتی اور اس کو جہاز اور کشتی کے حکم میں تصور کر نا غلطی ہے۔

اور بہار شریعت میں ہے:”کہ کشتی پر بھی اس وقت نماز جائز ہے جب وہ بیج دریا میں ہو،کنارہ پر ہو اور خشکی پر آسکتا ہوتو اس پر جائز نہیں،(جلد اول ،حصہ چہارم،ص:19)

فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے:”فضاءمیں اڑتے جہاز پرنماز پڑھنے کا یہی حکم ہے جو کشتی پر نماز پڑھنے کا یعنی قبلہ رو ہو کر نماز پڑھے،رکوع وسجدہ کے ساتھ بیٹھ کربھی پڑھنے کی اجازت ہے مگر افضل یہ ہے کہ کھڑے ہو کر پڑھنے اور اعادہ واجب نہیں۔(ص:275)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمدمناظرحسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے