اجازت لیے بغیر جمعہ کی امامت کرناکیساہے؟

سوال:کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید ایک محلہ کی مسجد کا امام تھا اور وہ امامت جمعہ کے لئے بھی ماذون تھا زید کے جانے کے بعد محلہ والوں نے عمرو کو امام مقرر کیا عمرو نےنمازجمعہ کے لئے اجازت نہ لی اور سالوں سے جمعہ کی نماز پڑھا رہا ہے کیاعمروکےپیچھےجمعہ کی نمازدرست ہوئی یانہ ہوئی؟جواب مرحمت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

صورت مسئولہ میں اگر سلطان وہاں نہ تھا اور اس کا نائب بھی نہ تھا لیکن اعلم علمائے بلد موجود تھے یا اس کا نائب و ماذون تھا لیکن محلہ والوں نے ان کی اجازت کے بغیر امام مقرر کیا تو نماز درست نہ ہوئی اور اگر مذکورہ تمام لوگوں میں سے کوئی نہ تھا تو ایسی صورت میں محلہ کے لوگوں کا امام مقرر کرنا درست ہوگا اور نماز بھی درست ہوگی۔

چنانچہ درمختار میں ہے:”نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر،امامع عدمھم فیوز للضرورۃ”.(ج،سوم،ص:۱۴)

اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”رجل خطیب یوم الجمعۃ بغیر اذن الامام والامام حاضر لایجوزذلک الا ان یکون الامام امرہ بذلک”.(ج اول،ص:۱۴۵)

اور اعلیٰ حضرت امام احمدرضامحدث بریلوی رضی اللہ عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں:”جمعہ و عیدین وکسوف میں کوئی امامت نہیں کر سکتا اگرچہ حافظ ،قاری،متقی وغیرہ فضائل کا جامع ہو مگر وہ جو بحکم شرع عام مسلمانوں کا خود امام ہو کہ بالعموم ان پر استحقاق امامت رکھتاہویا ایسے امام کا ماذون ومقرر کردہ ہو ۔اور یہ استحقاق علی الترتیب صرف تین طور پر ثابت ہوتاہے،اول سلطان اسلام ہو،ثانی جہاں سلطنت اسلام نہیں وہاں امامت عامہ اس شہر کے اعلم علمائے دین کو ہے ۔ثالث جہاں یہ بھی نہ ہو وہاں بمجبوری عام مسلمان جسے مقرر کرلیں”. (فتاویٰ رضویہ جلد ۳ ص:۲۰۵)

اور ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں:”نماز حکم شرعی ہے احکام شرع کے مطابق ہی ہوسکتی ہے کوئی خانگی معاملہ نہیں کہ جس نے جب چاہاکرلیا،حکم شرعی یہ ہےکہ اقامت جمعہ کے لئے سلطان اسلام یا اس کانائب یا اس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطان اسلام نہ ہو عالم دین،فقیہ معتمد،اعلم اہل بلد کے اذن سے امام جمعہ وعیدین مقرر ہو سکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہوتوبمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وہ امامت جمعہ یا عیدین کرسکتاہے”.(فتاویٰ رضویہ جلد سوم ص:۲۷۵)

اور بہارشریعت میں ہے:”کسی شہر میں بادشاہ اسلام وغیرہ جس کے حکم سے جمعہ قائم ہوتا ہے نہ ہوتو عام لوگ جسے چاہیں امام بنا لیں اگر بادشاہ سے اجازت نہ لےسکتے ہوں جب بھی کسی کو مقرر کرسکتے ہیں”.(جلد اول حصہ چہارم،ص:96)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:محمدمناظرحسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے