وطن کی محبت ایمان کاحصہ ہےیانہیں؟ایک تحقیقی جائزہ؟

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ "حب الوطن من الایمان”یہ حدیث ہے یانہیں؟اگر ہے توحدیث کے کس قسم سے ہے جبکہ کچھ علماء اسے اپنے تقریری مواد میں بھی پیش کرتے ہیں بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب

مسلمانوں کا تعلق جس ملک سے بھی ہو اس وطن کی محبت اور اس کی حفاظت ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے،جیساکہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن عزیز(مکہ مکرمہ)سے ہجرت فرمارہے تھے تو اس وقت اپنی محبت کا اظہار کچھ یوں فرمایاتھا:”مااطیبک من بلد واحبک الیّ،ولولاانّ قومی اخرجونی منک ماسکنت غیرک”یعنی تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے!اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پرمجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا،اسی نہج پر مسلمانوں نے بھی ہمیشہ سے ہی وطن سے محبت کا ثبوت پیش کیا ہےاور انشاء اللہ کرتے رہیں گے ۔رہی بات حدیث مذکور کی تو محدثین کرام نے اس حدیث کو بے اصل وبے بنیاد قراردیاہے:

چنانچہ کتاب المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع للامام الفقیہ المحدث علی القاری الھروی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:”حدیث حب الوطن من الایمان لا اصل لہ عندالحفاظ”(جلد اول ص:۹۱ حدیث ۱۰۶)

اور شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:”وامّا حدیث حب الوطن من الایمان فموضوع”(مرقاۃ المتاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ۳،ص۱۱۵۸)

اور اعلیٰ حضرت امام احمدرضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ تحریرفرماتے ہیں:”حب الوطن من الایمان(وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے)نہ حدیث سے ثابت نہ ہرگز اس کے یہ معنی۔(فتاویٰ رضویہ جلد 15ص:295 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

اورامام بدرالدین زرکشی نے اپنے جز اور امام شمس الدین سخاوی نے مقاصد حسنہ تحریر فرماتے ہیں:”حب الوطن من الایمان قال الصغانی:موضوع۔وقال السخاوی فی المقاصد:لم اقف علیہ۔۔(المقاصد الحسنہ للسخاوی ص:109)

اور امام خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے الدرالمنتشرہ میں بالاتفاق اس روایت کو فرمایا :لم اقف علیہ (میں اس سے آگاہ نہیں ہوسکا)۔(الدارالمنتشرۃ فی الاحادیث المشتہرہ،المکتبۃ السلامیہ بیروت،ص:100)

مذکورہ بالادلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حدیث منشور موضوع ہے لہذا اسے سرکار علیہ السلام کی طرف منسوب کرکے حدیث کہ کر بیان کرنے سے بچنااشد ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ ہم حدیث (من کذب علیّ متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار) کے دائرہ وعید میں آجائیں۔

(ان اللہ یغفرالذنوب جمیعا)

ھذا ماظہرلی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد مناظرحسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے