تراویح میں بھول کر چاررکعات پڑھ لیاتونماز کاکیاحکم ہے؟

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید تراویح کی نماز میں دو رکعت پر نہ بیٹھا بھول کر کھڑا ہوگیا اور تیسری وچوتھی رکعت مکمل کر کے بیٹھا اور سلام پھیرا تو نماز ہوئی یا نہ ہوئی؟ہوئی تو دو رکعت یا چار رکعات؟مدلل جواب تحریرفرمائیں۔

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

صورت مسئولہ میں زیدکی نماز تراویح ہو جائے گی مگر صرف دو رکعات ہی شمار کئے جائیں گے،چنانچہ فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:”وعن الشیخ الامام ابی بکر الاسکاف انہ سئل عن رجل قام الی الثالۃ فی التراویح ولم یقعد علی راس الثانیۃ؟قال:ان تذکر فی القیام ینبغی ان یعود الی القعدۃ فیقعد ویسلم،وفی الخانیۃ:مالم یقید الثالثۃ بالسجدۃ ،م:وان تذکربعد مارکع للثالثۃ وسجد فان اصناف الیھا رکعۃ اخریٰ کانت ھذہ الاربعۃ عن ترویحۃ واحدۃ وفی الخانیۃ :یعنی عن الرکعتین(جلد اول،ص:۶۶۴)

اور فتاویٰ رضویہ میں ہے:”کل ترویحۃ اربع رکعۃ بتسلیمتین،یہاں تک کہ اگر چار یازائدایک نیت سے پڑھے گا تو بعض ائمہ کے نزدیک دو ہی رکعت کے قائم مقام ہوگی اگرچہ صحیح یہ ہے کہ جتنی پڑھیں شمار ہوں گی جبکہ ہردورکعت پر قعدہ کرتارہاہو۔(جلد سوم،ص:۲۷)

اور بہارشریعت میں ہے:”دورکعت پر بیٹھنا بھول گیا کھڑا ہوگیا تو جب تک تیسری کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور سجدہ کرلیا ہو تو چار پوری کر ے مگر یہ دو شمار کی جائیں گی اور جو دو پر بیٹھ چکاہے تو چارہوئیں(جلد اول،حصہ چہارم،ص:۶۹۴)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد مناظرحسین مرکزی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے