حامدا ومصلیا امابعد
فاعوذباللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ان الذین امنواوعملواالصٰلحت سیجعل لھم الرحمٰن ودا(مریم آیت:96 )
بےشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے عنقریب ان کے لئے رحمٰن محبت کردےگا(کنزالایمان)
کسی بھی مقبول صفت شخصیت کی ایک علامت اس بندے سے خلق خدا کی گرویدگی ووارفتگی اوران کی والہانہ عقیدت ومحبت بھی ہوتی ہےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو رحمٰن اس کے لئے محبت ڈال دیتا ہے۔
کماجاءفی حدیث:”عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ اذا احب عبدادعاجبریل فقال انی احب فلانافاحبہ قال فیحبہ جبریل ثم ینادی فی السماءفیقول ان اللہ یحب فلانافاحبوہ فیحبہ اھل السماء ثم یوضع لہ القبول فی الارض۔(مشکوٰۃ المصابیح،ص:425)
یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بے شک جب اللہ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے اور فرماتا ہے میں فلا ں بندے سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر لہٰذا جبرئیل علیہ السلام اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر وہ آسمان والوں کو ندا دیتے ہیں اور کہتے ہیں بے شک اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم لوگ بھی اس سے محبت کرو آسمان والے بھی اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس بندے کی مقبولیت زمین والوں میں رکھ دی جاتی ہے”. (مشکوٰۃ شریف ص:۴۲۵)
ہم جب خلیفہ حضورمفتی اعظم ہند مناظر اہل سنت شیخ طریقت رہبرراہ شریعت بدرالطریقہ استادنا الکریم حضور شیربہارحضرت علامہ ومولاناالحاج الشاہ مفتی محمد اسلم رضوی قدس سرہ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور شیر بہار کو قبولیت کی اعلیٰ مرتبے پر فائز فرمایاتھا جہاں بھی جاتے خلق خدا کی ایک بھیڑ لگ جاتی،سینکڑوں دیوانے آپ کی زیارت سے سرفراز ہونے کے لئے جمع ہو جاتے، آج بھی بعد وصال ہزاروں کی تعداد میں شیدائے حضور شیر بہار آپ کی تربت پر پہنچ کر فیضان وکرم سے مستفیض ومستنیر ہورہے ہیں بالخصوص بموقع عرس اسلمی دیوانوں کا ایسا ہجوم ہوتا ہےلگتاہے کہ سطح زمین پر انسانوں کا سیلاب امنڈ پڑا ہو، حضورشیر بہارعلیہ الرحمہ اس دور قحط الرجال میں شریعت و طریقت کا حسین امتزاج اپنے اندر رکھتے تھے جو ہر دو طبقہ میں مخاصمت کی خاتمے کاذریعہ اور معاونت کی روح پھونکنےکا مضبوط وسیلہ تھے۔
ولادت باسعادت وتعلیمی سفر:آپ کی ولادت رمضان المبارک 1353ھ مطابق 1934ء میں مظفرپور ضلع کے گاؤں مہوارہ میں ہوئی بچپن ہی سے آپ بہت ذہین تھےآپ کی تعلیم وتربیت متعدد مدرسوں میں ہوئی اور تکمیل مفتی اعظم ہند کے قائم کردہ مدرسہ مظہر اسلام بریلی شریف سے ہوئی،جہاں آپ کو کتابوں کا علم حاصل ہوا وہیں مردکامل مفتی اعظم ہند کی صحبت کیمیا اثر نے تصوف وطریقت کے رموز واسرار بھی سکھائیں 1957ء میں جب آپ فارغ ہو رہےتھے تو جہاں آپ صف اول کے عالم تھے وہیں بنیادی سلاسل طریقت میں سلسلہ قادریہ برکاتیہ کی شاخ سلسلہ رضویہ کے ترجمان بھی تھے اور عمرکا طویل عرصہ اسی حالت میں گزرا دنیاسمجھتی رہی کہ یہ صرف اسی سلسلہ میں مرید ہیں مگر یہ بات پردہ خفامیں رہی کہ آپ ان سعادت مند مریدوں میں سے ہیں جنہیں محتاط مرشد چند ملاقاتوں میں خلافت سے نواز دیتے ہیں۔
درس وتدریس: حضورشیربہارعلیہ الرحمہ علوم متداولہ میں مہارت تامہ رکھتے تھے اپنی علمی قابلیت کی وجہ سے بلند علمی درسگاہوں میں صدرالمدرسین اورمنصب افتاء پر فائز رہے۔جس زمانے میں بڑی بڑی درسگاہیں اور اونچی تنخواہیں فرش راہ تھی آپ نے چند درسگاہوں کو زینت بخشنے کے بعد اپنا مستقراور آخری آرام گاہ مقصودپور کو بنایا جو آپ کے جائے پیدائش سے صرف ۳/ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جہاں نہ کوئی درسگاہ تھی اور نہ کوئی محراب ومنبر جہاں آپ وعظ ونصیحت کرتے ان حالات میں نہ صرف اپنے علمی سرمایہ کی حفاظت کی بلکہ جہالت کی تاریکی دور کرنے کے لئے 1968ءمیں اہل سنت کا عظیم قلعہ جامعہ قادریہ کی بنیاد ڈالی آپ کے خیمہ زن ہونےسے پہلے یہ علاقہ علم وآگہی سے ناواقف تھامگر آپ نے علم کی وہ جوت جگائی کہ یہاں کےتعلیم یافتہ طلبہ آج بھی ہندوستان کے مشہورومعروف مدارس میں منصب درس و تدریس پر فائزہوکر دین متین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
تصنیف وتالیف:یہ دور تصنیف وتالیف کا ہے حضور شیر بہار علیہ الرحمہ اس سے بھی شغف رکھتے تھے مگر افسوس کہ ان کی اہم علمی تصانیف طبع نہ ہوسکی اگر بوئے سخن شرح ملا حسن اور اسلم الحواشی شرح اصول الشاشی ترتیب وطباعت کے مرحلے سے گزر جاتی تو اہل منطق کے مباحث میں شیر بہار کے اضافات کو اور اصول فقہ میں ان کی مہارت کو ملاحظہ کرتے اس کے علاوہ آپ نے کئی کتابیں اور تقاریظ تحریر فرمائ جیسے:چالیس احادیث،حسام الحرمین پر اعتراضات کے جوابات،فتاویٰ برکات نور (جو فی الوقت مقبول عند الخاص والعام ہے) غیرھم۔۔۔
اخلاق کریمانہ: آپ کے اخلاق کا یہ عالم تھا کہ جولائق توقیر ہوتے تو بلا لحاظ عمر ان کا آپ ادب واحترام بجالاتےاور ہرشخص یہی کہتا کہ حضرت مجھے زیادہ مانتے ہیں مجھ ناچیز کو بھی حضرت سے بہت زیادہ شفقت وپیار حاصل ہوا ہرآنے جانے والے کو کچھ نہ کچھ کھلا کر ہی واپس کرتے ہرفریاد کرنے والے کی حتی المقدور فریاد سنتے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے،حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی مکمل پاس ولحاظ رکھتےتھے۔
پھول جھڑتے تھےادب کےتیرے ہونٹوں سے سدا
جس گھڑی ہوتے تھے تم محوسخن شیربہار
زہد وتقویٰ: تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ٹھندی ہو یا گرمی ہروز صبح میں غسل کرکے نماز تہجد ادا کرتے نوافل اور دیگر اوراد ووظائف میں کبھی کمی نہ کرتے،کئی بار ناچیز کو ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا میں نے ہر بار دیکھا نمازکاوقت ہوتے ہی حضرت کاحکم ہوتا گاڑی روکو!حضرت اکثروبیشترباوضو ہوتے فورانماز باجماعت کااہتمام فرماتے بعدہ آگے کا سفر طے کرنے لگتے،میں نے خود٣/سالہ زندگی میں کبھی بھی حضرت کو نماز ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اتباع شریعت :ویڈیوں ٹی وی کے سلسلہ میں آپ کا موقف عدم جواز کا تھا آپ اس پر سخت گرفت فرماتے آپ مجالس کو معاش کا نہیں تشہیروتبلیغ دین کا ذریعہ سمجھتے تھے۔چنانچہ استاد محترم مولاناممتاز صاحب قبلہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک تاریخ ساز کانفرنس میں جس کا اہتمام ایک بڑی علمی شخصیت کررہی تھی وہاں ویڈیوں کیسٹ بنائی جارہی تھی آپ نے جوں ہی دیکھا آپ نے فورا کھڑے ہوکر مجمع سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ مجھے ایک بات کہنی ہے بس کیا تھا کہ پورا مجمع ساکت وجامد ہو گیا آپ نے کہا کہ یہ جو ویڈیو کیسٹ بن رہی ہے یہ حرام ہے اور یقینا یہ منتظمین کی مرضی سے ویڈیوبنائی رہی ہے لہٰذا سب کے سب فعل حرام کے مرتکب ہوئے،موقف کے اظہار کے اس سادے سے جملے میں کیا تاثیر تھی کہ فورا بانی جلسہ جوایک عالم دین تھے حضور شیر بہار کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے علی الاعلان توبہ واستغفار کرتے ہیں۔حق گوئ کا وصف رکھنے والے اور حق بات کو بسروچشم قبول کرنے والے دونوں ہی قابل احترام ہوتے ہیں۔
سفر آخرت: مقصودپورمیں آپ نے اپنی زندگی کے 84/ سالہ اس شان سے گزارے کہ دل مومن ،لباس عالمانہ راہ درویشانا، برتاؤ عاجزانہ ،رعب شاہانا۔
کیا لوگ تھے جو راہ وفا سے گزر گئے
جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلے
جب تک زندہ رہے اسلامی افکارونظریات کی ترجمانی فرماتے رہے اور جب رخصت فرمایا تو جنازہ پر آنسوں بہانے والے مخلوق خدا کے ازدحام کثیر نے بہار کی سر زمین پر امام حسن بصری اور علامہ جلال الدین رومی کے دم واپسی کی یاد تازہ کردی۔ اسی طرح آپ6/ جنوری 2012ء 11/ صفرالمظفر 1433ھ جمعہ کی شب 2:35 پر اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف ہمیشہ ہمیش کے لئے کونچ فرماگئے۔
ابر رحمت تیرے مرقد پر گہر باری کرے
حشرتک شان کریمی ناز برداری کرے
کیوں نہ گوہر نام اسلم پہ کروں میں دل نثار
د ے گئے ہیں دل میں حب پنجتن شیربہار
خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تجھ پر
فناکے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری
از: محمد مناظرحسین مرکزی سیتامڑھی
![]()