دونوں ہاتھوں کا معذور استنجاء کیسے کرے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ زید کے دونوں ہاتھ کہنیوں کے اوپر سے کٹے ہوئے ہیں اب وہ استنجاء کیسے کرےگا؟۔

المستفتی:ریحان رضا حیدرآباد

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

زید اگر شادی شدہ ہے تو اس کی بیوی اسے استنجاء کرائے گی یا اگر باندی ہے تو وہ کرائے گی،اگر بیوی وباندی نہ ہو تو کوئی اور رشتہ دار مثلا بیٹا،بیٹی،بھائی،بہن اسے استنجاء نہیں کرا سکتے بلکہ اس پر استنجاء معاف ہے چنانچہ فتاویٰ شامی جلد اول ص:553پر ہے:”الرجل المریض اذا لم تکن لہ امرءۃ ولا امۃ ولہ ابن او اخ وھو لا یقدر علی الوضوء قال:یوضہ ابنہ او اخوۃ غیرالاستنجاء،فانہ لا یمس فرجہ ویسقط عنہ۔اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے : "الرجل المریض اذا لم یکن لہ امرئۃ ولا امۃ ولہ ابن او اخ وھو لا یقدر علی الوضوء فانہ یوضہ ابنہ او اخوۃ غیرالاستنجاء فانہ لا یمس فرجہ وسقط عنہ الاستنجاء”۔اور اسی طرح بہار شریعت میں ہے : مرد لنجھا ہو تو اس کی بی بی استنجاء کرا دے اور عورت ایسی ہو تو اس کا شوہر اور بی بی نہ ہو یا عورت کا شوہر نہ ہوتو کسی اور رشتہ دار بیٹا،بیٹی،بھائی،بہن اسے استنجاء نہیں کراسکتے بلکہ معاف ہے”۔(جلد اول حصہ دوم ص:413 مطبوعہ دعوت اسلامی)ہاں جس قدر ہوسکے صفائی کا اہتمام کرے۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: محمد مناظرحسین مرکزی

Loading

2 thoughts on “دونوں ہاتھوں کا معذور استنجاء کیسے کرے؟

  1. ماشاء االلہ عمدہ شروعات ہے امت مسلمہ کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا ، اللہ ربّ العزت آپ کی اس کار خیر کو قبول فرمائے ،اور آپ کے ذریعے اس امت کو تقویت عطاء فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دعاء گو۔ محمد محمود عالم رضوی مرکزی

    1. جزاک اللہ خیرا یا اخی الصدیق ، بارک اللہ تعالیٰ فی علمک وعملک وصحتک زد فزد یومافیوما ارجو منک انت ینصرنی یذکرنی فی دعاک ،فقط والسلام

مفتی مناظر حسین مرکزی کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے