سرنج سےخون نکالنےمیں وضوجاتاہےیانہیں؟

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ سرنج سے خون نکلوانے یا نکالنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا باقی رہتا ہے؟مدلل جواب تحریر فرمائیں۔

المستفتی:محمد توفیق گوپال گنج بہار

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب منہ الصدق والصواب

سرنج کے ذریعہ جس قدر خون لیا گیا ظاہر ہے کہ وہ نجس اور ناقض وضوہےاسی طرح سوئی کی نوک چبھا کر جس رستے ہوئے خون کو شیشی میں جمع کیا گیا اگر وہ اس قدر ہے کہ بہہ سکے تو اس سے وضو جاتا رہے گا ۔چنانچہ مجدد اعظم سیدنا امام احمدرضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مسئلہ میں ایک طویل بحث کے بعد افادہ فرماتے ہیں :”لایشترط فی النقض بما من غیرالسبیلین،الا الخروج بالسیلان علی ظاہر البدن ولو بالقوۃ، فلا یستثنیٰ من الظاہر حساًالاداخل العین ،لانہ لیس من الظاہر شرعا اصلاً "۔

(فتاویٰ رضویہ ج:اول،ص:481…22،جلد والی)

اور بہار شریعت میں ہے:”جونک یا بڑی کلی نے خون چوسا اور اتنا پی لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہہ جاتا وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں”۔(جلد اول حصہ دوم ص:305المکتبۃ المدینہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمدمناظرحسین مرکزی سیتامڑھی بہار

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے