قبرکوپکی کرنےکاشرعی حکم

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کیا قبر کو اوپر سے پکی کرسکتےہیں؟ اس کی شرعی حیثیت کیاہے؟ اور شریعت کا کیاحکم ہے؟ جواب تحریرفرمائیں۔
المستفتی:محمد دانش انور سیوانی

الجواب بعون الملک العزیزالوھاب

قبر کے اندر میت کے بدن سےمتصل کسی طرف پکی اینٹیں لگانایعنی پکی کرنامنع ہے اور اوپر اوپرپختہ اینٹیں لگانےاور پکی کرنے یا زمین بہت زیادہ گیلی اور نرم ہونے کی وجہ سے قبر کے اندر بدن سے متصل بھی پختہ اینٹیں لگانے میں حرج نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ بلا وجہ عام لوگوں کی قبر پختہ نہ بنائی جائےالبتہ معظمائے دینی کے قبروں کو اوپر سے پکی کرنا جائز ہےتاکہ لوگوں کے دلوں میں عظمت واحترام قائم ہو ۔چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:(یسوی اللبن علیہ والقصب لاالاٰجر)المطبوع والخشب لوحولہ اما فوقہ فلا یکرہ ابن ملک وجاز ذلک حولہ بارض رخوۃ کالتابوت”(جلد 3 ص:167)
اور فتح المعین میں ہے :”وقیدہ فی شرح المجمع بان یکون حولہ امالو کان فوقہ لا یکرہ لانہ یکون عصمۃ من السبع”.(جلد 2،ص:194)
اور فتاویٰ رضویہ میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:”اورقبر پختہ بنانے میں حاصل ارشاد علمائے امجاد رحمہم اللہ تعالیٰ یہ ہے کہ اگر پکی اینٹ میت کے متصل یعنی اس کےآس پاس کسی جہت میں نہیں کہ حقیقۃً قبر اسی کانام ہے بلکہ گڑھا کچا اوربالائے قبر پختہ ہے تو مطلقا ممانعت نہیں،یہاں تک کہ امام اجل فقیہ مجتہد اسمٰعیل زاہدی نے خاص لحد میں پکی اینٹ پر نص فرمایا جبکہ کچے چوکے کی تہ ہو اور اپنی قبر مبارک میں یوں ہی کرنے کی وصیت فرمائی اور متصل میت ممنوع مکروہ،مگر جبکہ بضرورت تری و نرمی زمین ہو تو اس میں بھی حرج نہیں۔”(جلد 9،ص:421رضا فاؤنڈیشن لاہور)

آپ رحمۃ اللہ علیہ مزید تحریر فرماتے ہیں قبر پختہ نہ کر نا بہتر ہے اور کریں تو اندرسے گڑھا کچا رہےاوپر سے پختہ کر سکتے ہیں،طول وعرض موافق قبر میت ہو،اور بلندی ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو ،اور صورت ڈھلوان بہتر ہے ۔”(جلد 9 ص: 425)

مزید ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں:”قبر جس قدر میت سے متصل ہوئی اس اندرونی حصہ کو پختہ کر نا ممنوع ہے اور باہر سے پختہ کر نے میں حرج نہیں،اور معظمانے دینی کے لئے ایسا کر نے میں بہت مصالح شرعیہ ہیں”.(جلد 9،ص:365)

فقیہ ملت مفتی جلا ل الدین امجدی رحمۃٰ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”علمائے متقدمین نے علماء ومشائخ کی قبروں کو صرف باہر سے پختہ بنانا جائز لکھا ہے اور عامہ مومنین کی قبر کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے لیکن اب ہندوستان میں جبکہ کفار اور بعض دنیا دار مسلمان ان قبرستانوں پر قبضہ کر رہے ہیں کہ جن میں سب قبریں خام ہو تی ہیں ،اس لئے ہر قبرستان میں کچھ قبروں کے پختہ ہونے کی اجازت ہے”.(فتاویٰ فیض الرسول جلد 2 ص: 531)

مفتی اعظم پاکستان وقار الدین قادری امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”دینی عظمت والے لوگوں کی قبریں اوپر سے پکی بنا دینے میں کوئی حرج نہیں۔البتہ اندر کی طرف کسی ایسی چیز کا لگانا مکروہ ہے جو آگ سے بنا ئی گئی ہو مثلاًسمینٹ یا پکی اینٹیں وغیرہ” (وقار الفتاویٰ جلد 2 ص:362)
مذکورہ بالا دلائل وشواہد سے ظاہر ہوگیا کہ قبر کو اوپر سے پکی کرنا جائز ہے اور جس روایت میں قبر کو پکی کرنے کی ممانعت ہے اس سے مراد بلا وجہ اندر سے پکی کرناہے۔

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: محمدمناظرحسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے