کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر مردوعورت ایک دن ایک ہی گھر میں انتقال ہو جائے تو کیا ایک ساتھ دونوں کا جنازہ پڑھاجاسکتا ہے یا نہیں ؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی:حافظ وقاری محمد جمشید رضا سیتامڑھی
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب
صورت مسئولہ میں اگر دو جنازہ (مردوزن کا)بیک وقت ایک ہی ساتھ موجود ہو تو بہتراور افضل یہ ہے کہ دونوں کے الگ الگ پڑھے جا ئیں،اورایک ساتھ پڑھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں،چنانچہ در مختار میں ہے :”واذااجتمعت الجنائز فافراد الصلاۃ علی کل واحدۃ اولیٰ من الجمع”(118/3)
اور فتاویٰ رضویہ میں ہے :”بالغوں کے ساتھ نا بالغوں کی نماز بھی ہوسکتی ہے دونوں دعائیں (بالغ اور نابالغ والی)پڑھی جائیں پہلے بالغوں کی پھر نابالغوں کی اور بہرحال اگر دقت نہ ہوتو ہر جنازے پر جدا نماز بہترہے”۔(فتاویٰ رضویہ199/24-200)
فتاویٰ مصطفویہ میں ہے :”چاہیں ایک ہی پڑھیں ،چاہیں علیٰحدہ علیٰحدہ کر کے”۔(ص:29)
اور بہار شریعت میں ہے :”کئی جنازے جمع ہوں تو ایک ساتھ سب کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی ایک ہی نماز میں سب کی نیت کرلے اور افضل یہ ہے کہ سب کی علیٰحدہ علیٰحدہ پڑھے "۔(ص:839 مطبوعہ المکتبۃ المدینہ)
ھذا ما ظھرلی واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ محمد مناظرحسین مرکزی
![]()