مصلی اگر نمازمیں "صدق اللہ العظیم”پڑھ دے تو نمازکاکیاحکم ہوگا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ مصلی اگر بعد قرات سہواًیاقصداً”صدق اللہ العظیم”پڑھ دے تو نماز کا کیاحکم ہے؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک العزیزالوھاب

صورت مسئولہ میں مصلی اگر کسی کے جواب میں کہا ہےتو نمازجاتی رہے گی ورنہ نماز ہو جائےگی چنانچہ فتاویٰ شامی میں ہے:”سمع اسم اللہ تعالیٰ فقال جل جلالہ،او النبی صلی اللہ علیہ وسلم فصلیٰ علیہ،او قراءۃ الامام فقال : صدق اللہ ورسولہ،تفسد جوابہ”۔(جلد دوم،ص:380)

اور فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ولو قرا الامام آیۃ الترغیب اوالترھیب فقال المقتدی صدق اللہ وبلغت رسلہ فقد اساء ولا تفسد صلاتہ”۔(جلد اول ص:100)

اور بہار شریعت میں ہے:”اللہ عز وجل کانام مبارک سن کر”جل جلالہ” یا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اسم مبارک سن کر درود پڑھایا امام کی قرات سن کر "صدق اللہ صدق رسولہ "کہا تو ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی جبکہ بقصد جواب کہا ہو اور اگر جواب میں نہ کہا تو حرج نہیں”۔(حصہ سوم،ص:27)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ: محمد مناظر حسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے