صفوں میں نابالغ آجائے تو بالغوں کےنماز کاکیاحکم ہے؟

سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ صفوں کے بیچ میں کوئی نابالغ لڑکا آجائے تو اب کوئی بالغ اس کے پیچھے یا اس کے کنارے نماز پڑھے تو کیاحکم ہے؟حوالوں کے ساتھ تحریرکریں۔

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

صورت مسئولہ میں بالغ مصلی کے لیے حکم یہ ہے کہ اس نابالغ لڑکے کے پیچھے یا کنارے نماز پڑھے جبکہ وہ لڑکا عاقل ہو اس کو آگے پیچھے ہٹانے کی اجازت نہیں اگر ہٹائے گا تو گنہ گارہوگا کیونکہ فقہائے کرام نے ایسے لڑکے کو مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی اجازت دی ہے،چنانچہ درمختار میں ہے:فلو واحدا دخل الصف(ج:۲ ص:۳۱۴)

اور فتاویٰ رضویہ میں ہے:”صلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا وقد امرالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یسدالفرج والتراص فی الصفوف ونھی عن خلافہ ینھی شدید اور یہ بھی کوئی ضروری امر نہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کو کھڑا ہو علما اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں نیز مراقی الفلاح کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:”ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجال”۔بعض بے علم جو یہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے اب یہ آئے تو اسے نیت بندھا ہوا ہٹاکر کنارے کر دیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتےہیں یہ محض جہالت ہے اسی طرح یہ خیال کہ لڑکا برابر کھڑا ہوتو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں۔”(جلد سوم،ص:۳۱۸)

اور بہارشریعت میں ہے:بچہ تنہا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہوجائے۔”(جلد اول حصہ سوم،ص:۱۱۴)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد مناظرحسین مرکزی سیتامڑھی

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے